طریقہ تعاون

آمد رمضان

مولانا اسماعیل ریحان صاحب

الحمد للہ رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں وہ مہینہ ایک بار پھر عطا فر مایا جس کی تمنائیں اور دعائیں امت کے بہترین لوگ کیا کرتے تھے۔ ہر سال یہ مہینہ اپنے جلو میں رحمت و مغفرت کی برسات لے کر آتا ہے ، ہم ایسے محترم مہینے کا استقبال کیوں نہ کریں، جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں سرکش جنات و شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، تا کہ اللہ کے بندوں پر ان کا قابو نہ چلنے پائے۔ ہم اس مبارک مہینے کو خوش آمدید کیوں نہ کہیں، جس میں امت کے بے شمار افراد کی بخشش کی جاتی ہے یہ مہینہ ہے ایثار و ہمدردی کا سندیسہ لاتا ہے۔ ہمیں یادوارتا ہے کہ صرف پیٹ بھرنے میں مزا نہیں ،اسے خالی رکھنے میں بھی عجیب لطف ہے۔ ہم جیسے محروم بصارت چاہے اس ماہ کی قدر و قیمت نہ جانیں مگر جن کے دل روشن دو رمضان اور غیررمضان کا فرق خوب سمجھتے ہیں۔ وہ مہینوں پہلے رمضان کا انتظار کرتے ہیں اور جوں جوں یہ قریب آتا یہ ہے ان کے دل کی کلی کھلاتی چلی جاتی ہے۔ اس ۔ رسول اللہ صلی اللہ ما یہ وسلم رجب کا چاند دیکھتے تویہ دعا فرماتے: "اللهم بارك لنا في رجب و شعبان وبلغنا رمضان” اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور رمضان تک نہیں پہنچا۔ شعبان شروع ہوتا تو آپ نفلی روزے رکھنا شروع فرمادیتے۔ جو رمضان سے کچھ پہلے بندفرماتے ۔ رمضان کا مہینہ سایہ شان ہو جاتا تو پھر آپ کی عبادت کیا وہ عالم ہوتا کہ حد نہیں۔ صحابہ کرام رمضان کے کسی قدر مشتاق رہتے تھے۔ اس بارے میں مشہور تا بعی معلی بن الفضل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"كانو يدعون الله ستة اشهران يبلغهم رمضان ثم يدعونه سنة الشهران يقبله منهم " یعنی جب رمضان میں پچھ ماہ باقی رہ جاتے تو صحابہ دعائیں کرتے کہ دور مضان کو پائیں جب رمضان گزر جاتا تو چھ ماہ تک دعا نہیں کرتے کہ ان کے رمضان و قبول کرلے۔اسلاف نے لکھا ہے کہ اگر لوگوں کو اس بات کا صحیح علم ہو جائے کہ رمضان کے مہینہ میں کتنی برکت اورکیا کچھ خیر  آخرت ہے تو وہ یہ تمنا کرنے چلیں کہ کاش پورا سال رمضان ہی ہوا کرے۔ ماه مبارک کو قرآن مجید کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور سید الملائکہ جبریل علیه السلام نزول قرآن کے مبارک مہینہ میں ایک دوسرے کو قرآن سناتے اور سنتے ۔ رمضان کے آخری دس دن آپ مسجد میں اعتکاف فرماتے۔ خود بھی رات بھر جاگتے اور اہل وعیال کو بھی جگاتے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ ہر روز ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔ اور بعض صحابہ کرام ہر سات دنوںمیں ایک مرتبہ قرآن کریم تراویح میں ختم کرتے تھے۔تابعین اور تبع تابعین کی عبادت کا منظر ملاحظہ ہو کہ بڑی تعد اور مضان میں ہر تین راتوں میں ایک قرآن ختم کرتی بعض پر سات روز میں جبکہ بعض ہر دس دن میں ایک مرتبہ ختم فرماتے۔

سفیان ثوری جب رمضان شروع ہو جاتا تو تمام اعمال کو چھوڑ کر قرآن کی تلاوت کرنے لگتے۔ ولید بن عبد الملک اموی کا خلیفہ ہونے کے باوجود رمضان میں سترہ مرتبہ قرآن ختم کرنے کا معمول تھا۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہا اللہ ساٹھ مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے۔ امام بخاری رمضان میں ہر دن ایک ختم رمضان میں اپنے اعمال کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ ہم گناہوں اور فضول مشاغل سے خود کو بچائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ روزہ صرف کھانے اور پینے سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ جھوٹ، ناحق اور فضول باتوں سے بچنا بھی روزے میں شامل ہے۔ (ابن ابی شیبہ )

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم روزہ رکھو تو کان ، آنکھوں اور زبان کا بھی روزہ درکھو، جھوٹ سے، گناہوں سے بچو۔ دوسروں کو تکلیف دینا چھوڑدو ۔ روزے کی حالت میں وقار اور تحمل سےر ہو، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے جب تم روزہ رکھو تو جاہل اور گالی باز نہ ہو اگر کوئی تمہارے ساتھ جہالت کرے تو اسے ہو کہ میرا روزہ ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ دو خصلتیں ہیں جن سےحفاظت روزے میں بچنا بہت ضروری ہےغیبت،جھوٹ

رمضان و جود و سخاوت کا مہینہ بھی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں آپ صلی الله علیہ وسلم لوگوں میں خیر کے سب سے زیاد ہی تھے اور رمضان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کوچلتی ہوا سے بھی زیادہ بھی ہو جاتے۔ یہی حال صحابہ اور اسلاف کا تھا کہ رمضان میں خود صدقہ و خیرات کرتے۔ سحر و افطار میں خاص کر دوسروں کو شریک کرتے ۔ رمضان کا مہینہ نفس شکنی کی مشق کے لیے ہے۔ اس لیے اس دوران سحر و افطار میں خود اناڑی کی بندوق کی طرح پیٹ میں اشیائے خوردو نوش ٹھونستے چلے جانا روزے کے مقصد کو فوت کر دیتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا اکثر انظار کھجور اور پانی سے ہوتا۔ اسلاف کے ہاں اس کے ساتھ روٹی،نمک،زیتوناور سرکے جیسی ہلکی پھلکی چیزوں کا رواج تھا۔

 اسلاف کا کہنا تھا: جو شخص روزے کا فائدہ حاصل کرے تو وہ زیادہ نہ کھائے کیونکہ کم کھانے سے دل نرم رہتا ہے اور فہم کی قوت اور اس کی انکساری اور خواہشات کی کمی کے ساتھ ساتھ غصہ بھی کم رہتا ہے۔ محمد بن واسع فرماتے تھے۔ جو کم کھانا کھاتا ہے اس کی فہم زیادہ ہوتی ۔

آخر میں حضرت شیخ المحدثین مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی تحریر کا ایک ٹکڑا جو روزے کے مقصد کوبڑی گہرائی کے ساتھ واضح کرتا ہے۔ حضرت فرماتے ہیں:

برائیاں کچھ تو ایسی ہیں جن کا تعلق زبان سے ہے، کچھ کا تعلق پینے سے ہے، کچھ کا تعلق شرم گاہ ہے ہے اور ان سب کا تعلق  انسانی کی خواہشات سے ہے۔ انسانی خواہشات بھی مختلف قسم کی ہیں ، کچھ خصلتیں تو انسان میں درندوں کی ہیں ۔ دوسروں کو مارنا پیٹنا،توڑ نا پھوڑنا اور غیظ ومطلب کے تقاضوں کو پورا کرنا۔ کچھ خاصیتیں عام جانوروں کی ہیں۔ شکم پروری تن پروری کھانے پینے اور سونے وغیرہ کے مشاغل ۔ کچھ نفسانی تقاضے ہیں جن کو ہم عرف میں انسانی خواہشات کہتے ہیں۔ یہ تینوں نفسانی قوتیں اور ان کی خواہشات جب تک قابو میں نہ آئیں انسان میں تقوی کا حصول ممکن نہیں۔ ان پر قابو پانے کے لیے حکماء عقلاء میں ہمیشہ سے چند اصولی امور پر اتفاق رہا ہے۔ (1) کم خوری (1) کم کوئی (۳) کم خوابی (۳) لوگوں سے کم ملنا جلنا۔

ماہ رمضان کے روز سے ان تینوں مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ روزہ دار کو (1) ان میں طلوع فجر سے غروبآفتاب تک کھانے پینے اور انسانی خواہشات پورا کرنے سے بالکل روک دیا گیا ہے۔ (۲) رات میں تراویح،قیام لیل،شب بیداریکے ذریعہ نیند پرکنٹرول  کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ (۳) تلاوت

کلام اللہ کی تدبیر کی گئی ہے۔ (۴) رمضان کے عشرہ اخیرہ میں اعتکاف کو مسنون قرار دے کر لوگوں سے کمملنے جلنے اور بلاضرورت میل جول نہ کرنے کی عادت پیدا کرنے کی تدبیر کی گئی ہے۔ پورے ایک ماہ یہ ریاضت کرانے کا مقصد یہ ہی ہے کہ یہ خصلتیں مستقل عادات و اخلاق بن جائیں،چنانچہ پورے تیس دن سحری کا حکم دے کر سحر خیزی کی عادت ڈالی جاتی ہے اور پورے ایک ماہ تراویح کا حکم دے کر شب میں کثرت سے نفلیں پڑھنے کی عادت ڈالنا مطلوب ہے ۔“

 اپنے اکابر کے ان ارشادات کی روشنی میں اس ماہ رمضان کو ایک یاد گار رمضان بنادیں جو ہماری اخروی نجات کا سبب بن جائے۔۔۔۔۔آمین

عنوانات

پر اشتراک کریں

حالیہ مضامین

  پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دارکون؟

آگئی چھٹیاں

پاک بھارت تعلقات

کشمیر کاالمیہ

آمد رمضان - Maulana Ismayil Rehan Sahab Website