طریقہ تعاون

خوش نمائی اوربدنمائی

مولانا اسماعیل ریحان صاحب مدظلہ العالی

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کودیکھا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا اسے ایسی چیز(کنگھی ) میسرنہیں جس سے یہ اپنی حالت درست کرلے !(کنزالعمال)

   بننا سنورناانسان کا حق ہے جواللہ نے اسے دیا ہے ۔سنت بھی یہی ہے کہ انسان زیادہ تکلف کیے بغیر خوبصورت اوراچھے انداز میں رہے۔بھدااوربدنمارہنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جمعے کو غسل سنت قراردیاہے ۔اسی طرح جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنے کی تعلیم دی ہے ۔بالوں میں تیل لگانا،کنگھی کرنااورآنکھوں میں سرمے کااستعمال بھی سنت ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم صاف ستھرے رہاکرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامہ زیبی اپنی مثال آپ تھی ۔عمامہ اورکرتا اگر چہ سادہ ہوتا مگر ایسا جچتا جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ یہی طر ز صحابہ کرام اورصحابیات کاتھا۔

    عورتوں کے لیے زیب وزینت پسندیدہ قراردی گئی ہے ، ان کاہاتھوں پر مہندی لگانا ،کنگھی چوٹی کرنا ، پھول دار، دلکش اورریشمی لباس پہننا بالکل درست ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ضرورہیں جو سراسر تکلف اورخلاف ِ فطرت وضع بنانے کے زمرے میں آتی ہیں مثلاً دانت گھسوانا،بھوؤیں ترشوانا ،بدن گودوانا وغیرہ اس لیے ایسی تمام چیزوں کو اسلام نے مردوعورت دونوںکے لیے ممنوع قراردیاہے۔اسی طرح جن چیزوںسے طہارت اورپاکی میں رکاوٹ پیداہوتی ہو مثلاً نیل پالش وغیر ہ ان کے استعمال سے بھی علماء منع فرماتے ہیں۔

اسلام مرد اورعورت کے درمیان خطِ امتیاز رکھنے کے لیے ان کے صنفی فرق کوان کی وضع قطع اورلباس میں بھی نمایاں دیکھناچاہتاہے،اسی لیے مردوںکوعورتوں کی شکل وصورت اورلباس اختیارکرنے سے منع کیاگیاہے، عورتوں کومردانہ اندازواطواراورلباس سے روکاگیاہے۔ اسی خطِ امتیاز کو باقی رکھنے کے لیے مردوں کو ڈاڑھی رکھنا لازم ہے ۔ عورتوں کے لیے مردانہ انداز کے بال رکھنا ممنوع ہے۔غرض اسلام نے جس طرح زندگی کے دیگر پہلوؤں میں بھرپوررہنمائی کی ہے،اسی طرح لباس ،آرائش اوربننے سنورنے کے بارے میں بھی ہدایات دیں ہیں۔ان ہدایات کوسامنے رکھتے ہوئے جائز حدودمیں انسان کواپنی آرائش وزیبائش اس حدتک ضرورکرنی چاہیے کہ لوگ اس سے کراہت محسوس نہ کریں ،شخصیت بھدی اوربھونڈی معلوم نہ ہو۔ بعض لوگ دین ودنیاکے کاموںمیں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ خود پرتوجہ دینا ذرابھی یادنہیں رہتا۔ بال پراگندہ ، لباس میلاکچیلا، ناخن بڑھے ہوئے ، قریب جائیں تو بدبومحسوس ہو۔یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس سے دوسروں کوبھی تکلیف ہوتی ہے اورخود بندے کی وقعت بھی کم ہوتی ہے۔

آج کل فتنوں کادورہے ۔غیرمحارم کے باہمی ناجائز تعلقات کے ذرائع بہت عام ہوگئے ہیں۔ ان ناجائز دوستیوں کے لیے لوگ بنتے سنورتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی طرف کشش پیداہو۔ خواتین اچھے سے اچھا میک اپ کرتی ہیں ،مردعمدہ سے عمدہ لباس پہنتے ہیں ۔ کوشش ہوتی ہے کہ دیکھتے ہی ہم دوسرے کی آنکھوں میں سماجائیں ۔مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ اپنے جائز اورشرعی ساتھی یعنی شریک حیات اوررفیقہ حیات کے لیے اس طرح بننے سنورنے کاکبھی خیال نہیں آتا۔ مرد وں کودیکھیئے کہ کسی دعوت وضیافت یاپارٹی پر جانے کے لیے تو خوب نہادھوکر تیار ہوکر نکلیں گے مگر بیوی انہیں کیسا دیکھنا پسند کرتی ہے اس کی کبھی پروانہیں ہوگی۔ عورت اگر غیرشرعی شکل میں مردکودیکھناچاہے مثلاً اسے ڈاڑھی منڈادیکھنا پسند کرے تو ظاہر ہے یہ مطالبہ جہالت کی پیداوارہے،ایسی عورت کو سنت کی اہمیت بتائی جائے اورحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واطاعت کاسبق دیاجائے ۔

تاہم اکثر مواقع پر خاتون خانہ کی چاہت اورپسند جائز حدودکے اندراتنی ہواکرتی ہے کہ میاں صاحب ایک باوقار اورخوبصورت شخصیت کے مالک دکھائی دیں۔ مگر میاں صاحب کا حال یہ ہے کہ پینتیس چالیس سال کی عمر میں بال سفید ہیں ،بابامعلوم ہوتے ہیں،کبھی یاد نہیں آیا کہ مہندی کی سنت پرعمل کرلیں، دانت پان کی پیک سے سیاہ ہورہے ہیں ،کبھی مسواک کا اہتمام نہیں کیا، جسم سے بدبوآتی ہے کہ خوشبو کاکبھی بھول کر بھی خیال نہیں آیا۔جب میاں گھر میں ملنگ بنے پھرتے ہوں،جنہیں دیکھ کر ہنسی آتی ہو تو بیوی کے ارمانوں پراوس ہی پڑسکتی ہے۔ رفتہ رفتہ ایسی خواتین شوہرسے مستقل بددل ہوجاتی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ شوہر حضرات بیویوں کادل رکھنے کے لیے شرعی حدودکے اندرآرائش وزیبائش کااہتمام کریں۔ صاف ستھر ے رہاکریں ۔لباس مناسب استعمال کریں ۔ مسواک اورمنجن سے منہ کو صاف اورخوشبوداررکھیں ،بال جلدی سفید ہورہے ہوں تو مہندی اورجائز رنگت کاخضاب (سیاہ رنگ کے سوا)استعمال کرنا چاہیے تاکہ عورت اپنے جائز رفیق کی طرف ہی متوجہ رہے۔ اس موضوع کاایک پہلو عورتوں کامردوں کے لیے آرائش وزیبائش اختیارکرناہے۔اس پر ان شاء اللہ آئندہ بات کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوش گوارزندگی اورلافانی حیاتِ باسعادت جس طرح مردوں کے لیے اپنے اہل خانہ کی خاطر بننا سنورنااہم ہے ،ا س سے کہیں زیادہ عورتوں  کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شریکِ حیات کی خوشی کے لیے صفائی ستھرئی اورآرائش وزیبائش کااہتمام کریں۔ کیونکہ عورت عموماً گھرکے اندررہتی ہے ۔ اس کے سماجی تعلقات محدوود ہوتے یں۔وہ عام طورپر غیرسے ناجائز تعلق کانہیں سوچتی۔ مگر مرد توہر میدان میں کھلے عام گھوم پھرسکتاہے۔ اگر وہ اپنی بیوی سے بددل ہوگیا،اسے محبوبہ کی جگہ ماسی اورنوکرانی ہی سمجھنے لگا تو پھر اسے کسی اورمحبوبہ کی تلاش ہوگی جس کے لیے وہ اپنا گھر بربادکربیٹھے گا۔ یہ کوئی اندازہ نہیں ،حقائق ہیں۔ روزانہ اخبارت میں کتنے ہی واقعات گھروں کی ایسی بربادی کے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ان کی ایک بڑی وجہ میاں بیوی میں نباہ کانہ ہونااورمردوں کاغیرعورتوں کی طرف متوجہ ہوناہے۔ اوراس غلط توجہ کی ایک بڑی وجہ خود بیویوں کاشوہروں کے لیے دلکش نہ بنناہے۔

 آج کل اسلامی تعلیمات کے برعکس یہ ہورہاہے کہ خواتین باہر نمائش کے لیے ڈھیروں میک اپ کرکے نکلتی ہیں اورلعنت کی مستحق بنتی ہیں۔ شوہرکے لیے ذراخیال نہیں آتاکہ کچھ بن سنورکرسامنے جائیں۔ شوہر کو بس پیسہ کمانے کی مشین سمجھ لیاجاتاہے۔اگر اتنی ہی توجہ شوہرکی نگاہ میں اچھابننے پردی جاتی جتنی پارٹیوں میں نمایاں آنے پر دی جاتی ہے تو ہزاروں گھر بربادی سے بچ جائیں۔

بعض خواتین کہتی ہیں کہ ہم شوہر کے لیے کس طرح بنیں سنوریں ۔ہروقت کام کام اورکام ہے ۔ ضروری آرام کاوقت بھی نہیں ملتا چہ جائے کہ کنگھی چوٹی اوراچھے لباس کی فکرکریں۔ مگر درحقیقت یہ ایک حیلہ بہانہ ہی ہے۔آخر دعوتوں میں جانے کے لیے تیاری کاوقت کیسے مل جاتاہے ۔

پھر ہم یہ نہیں کہتے کہ روزانہ اسی طرح عید کے دن کی طرح آرائش وزیبائش کی جائے ۔ مگر اتنا توکیاجاسکتاہے کہ شوہر کے کام سے گھر آنے کے وقت صرف دس منٹ نکال کر اپنی حالت درست کرلی جائے جو دن بھر کے کام کاج میں ماسیوں سے بدتر ہوچکی ہوتی ہے۔

خواتین گھر کے کام کاج کے لیے معمولی کپڑے پہناکریں مگر جب شوہر کے گھر آنے کاوقت ہوتو تیار ہوکر الگ سے ذرابہتر کپڑے استعمال کریں ۔ زیادہ تر شوہروں کی ناراضی اوربددلی کی وجہ وہ خاص وقت ہوتاہے جب وہ کام سے لوٹتے ہیں اورانہیں آگے سے وہ تبسم ،وہ دلکشی اوروہ خاطر تواضع نہیں ملتی جو فطر ی طورپرہر شوہر اپنی رفیقہ حیات سے چاہتاہے۔ اس لیے کوشش کی جائے کہ ان کی آمد سےقبل خود کو تھوڑاساتیارکرلیا جائے ۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم صابن سے منہ ہاتھ دھو کر دن بھر کے گردوغبار سے نجات پالی جائے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامعمول تھا کہ آپ سفر سے واپسی پر مدینہ کے باہر کچھ وقت قیام فرماتے تھے تاکہ خواتین اپنی حالت درست کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے معلوم ہوتاہے کہ صاحب ِ خانہ بغیراطلاع اپنے گھروں کو نہ پہنچے ، پہلے اطلا ع دے دینا بہتر ہے ۔(ترمذی شریف ،روایت نمبر ۲۷۱۲)

 آج کل تویہ کام بہت آسان ہے ۔ شوہر حضرات گھر پہنچنے سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے موبائل پر بتادیں کہ میں اتنی دیر میں پہنچ رہاہوں توخواتین کو ان کی خاطر مدارات میں سہولت رہے گی۔ظاہر ہے منٹوں سیکنڈوں کے مطابق روزانہ ایک ہی وقت پر پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ خواتین بھی گھروں میں بہت مصرووف ہوتی ہیں ۔اس لیے بہت مشکل ہے کہ وہ اندازہ لگا کر گھنٹہ دوگھنٹہ پہلے ہی سب کام نمٹاکر میاں جی کاانتظارکریں۔ اگر دس پندرہ منٹ پہلے بھی اطلاع ہوجائے تو وہ کم ازکم ذہنی طورپر تیار ہوجائیں گی ۔ شوہر کو جس قسم کی راحت کی ضرورت ہے ،اس کاسامان مہیاہوسکے گا۔ ساری بات ہم آہنگی ،سلیقے اورحسن ِ انتظام کی ہے جو گھرکی زندگی کو خوش گواربنانے کے لیے بے حدضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں اس خوش گوارزندگی کی ضمانت دیتی ہیں جو آخرت میں اصل اورلافانی حیاتِ باسعادت کاذریعہ بنتی ہے۔ اللہ ہمیں دین ودنیا کی ان کامیابیوں کوسمیٹنے کی ہمت وتوفیق دے جو اسلامی تعلیمات اورسنت طریقے میں مضمرہیں۔آمین

عنوانات

پر اشتراک کریں

حالیہ مضامین

  پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دارکون؟

آگئی چھٹیاں

پاک بھارت تعلقات

کشمیر کاالمیہ

خوش نمائی اوربدنمائی - Maulana Ismayil Rehan Sahab Website