طریقہ تعاون

بیت المقدس سے اندلس تک

مولانا اسماعیل ریحان صاحب

  لگ بھگ اڑھائی ہزارسال سے یہودی یہی ارمان پالتے آئے ہیں کہ کسی طرح وہ یروشلم کودوبارہ حاصل کریں اوروہاں ہیکلِ سلیمانی کی ازسرِنو تعمیر کریں تاکہ وہاں عالمگیر بادشاہ (دجال) اپنا تخت نصب کرے اورعالمگیر حکومت قائم کرے۔نپولین کو مشرقِ وسطیٰ پر قبضے کی تحریک دینے میں یہودی اسی لیے پیش پیش تھے کہ تاکہ اس کے بدلے انہیں فلسطین اورخصوصاً یروشلم دوبارہ مل جائے۔۱۸۹۶ء میں ابھرنے والی جدید صہیونی تحریک کااصل ہدف ہی یہ تھاکہ یروشلم پر قبضہ کیاجائے اوراسے اپنا مذہبی اور سیاسی مرکز بنایاجائے۔۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے ناجائز وجود اور۱۹۶۸ء میں اردن پر حملے اوربیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد صہیونیوں کی خواہشا ت کی تکمیل کاوقت قریب آگیا تھا،تاہم اس وقت امریکاکوروس سے مقابلے کے لیے عالم اسلام کی ضرورت تھی اورمسلمانوں کے شدید ردِ عمل کے خطرے کے باعث امریکی زعماء اسرائیل کی خواہش پر عمل درآمدکوٹالتے رہے۔

    مگر اب پچیس تیس سال پہلے جیسے حالات نہیں ۔امریکا خود کودنیا کی واحد سپر پاور سمجھتا ہے۔ پاکستان ،سعودی عرب اورترکی کے سواوہ مسلم دنیا کے ان تمام طاقتورممالک کابیڑاغرق کرچکا ہے جنہیں سردجنگ،جنگِ ویت نام اورجنگِ افغان کے دوران ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے اسی لیے وہ فیصلہ کیا ہے کہ جس کی ہمت سابق امریکی سربراہ نہیں کرسکے تھے۔یہودی لابی اس فیصلے کوان کی تاریخ سازجدوجہد کااہم سنگ میل قراردے رہی ہے۔

    عالم اسلام اس فیصلے پر سراپااحتجاج ہے اوربلاشبہ یہ لازم ہے کہ اس متعصبانہ فیصلے کی ہر سطح پر مذمت کی جائے۔مگراس کے ساتھ ساتھ ایک اہم پہلو جسے ہم نے نظر انداز کیا ہواہے،یہ ہے کہ بیت المقدس پر یہودیوں کے استحقاق کی تردید علمی دلائل کے ساتھ بھی کی جائے۔

   صورتحال یہ ہے کہ ہماری طرف سے فقط احتجاج ہوتا ہے جبکہ کہنہ مشق صہیونی مؤرخین اوردانشور اس موضوع پر دلائل (چاہے خودساختہ سہی)جمع کرتے ہیں اوریہ مواد بڑے سلیقے کے ساتھ مختلف رسائل وجرائد،بین الاقوامی سطح کے علمی فورمزاور عالمی ذرائعِ ابلاغ پر پیش کیاجاتا ہے۔عالم اسلام کے سیکولر صحافی  حقائق سے لاعلمی یاتغافل کے باعث اس مواد کومن وعن جذب کرلیتے ہیں اورپھر وہ خود مسلم عوام کایہ ذہن بنانے لگتے ہیں کہ یہودیوں کوان کاحق کیوں نہ دیاجائے۔آخروہ بے چارے اسی متاع کوواپس لے رہے ہیں جس سے انہیں محروم کردیا گیا تھا۔

  ایسے میں اسلامی محاذکے علم بردارصحافیوں،عالموں ،خطیبوں اوراینکرزپر یہ لازم ہوجاتا ہے کہ وہ بھی دلائل کے مقابلے میں دلائل سے بات کریں،تاکہ دنیا کوپتاچلے کہ بیت المقدس کومسلمان  یہود کاحق تسلیم نہیں کرتے تو اس کی وجہ کوئی مذہبی تعصب نہیں بلکہ زمینی حقائق یہی ثابت کرتے ہیں۔   ضرورت ہے کہ تاریخ کاگہرائی کے ساتھ جائز ہ لیاجائے۔ اور اس مخصوص ’’پوائنٹ آف ویو‘‘ کو چھوڑ دیا جائے جس پر صہیونی ذرائعِ ابلاغ مصر ہیں۔

    یہ لوگ ہمیں فقط اڑھائی ہزاربرس پہلے کی تاریخ دکھاتے ہیں جب یہود بیت المقدس میں آباد تھے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے پہلے ارضِ مقدس بہت سے سامی اورغیرسامی قبائل کاوطن رہی ہے۔ آموری،فلستی،موآبی،ادومی وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے۔عبرانی بولنے والے یہودی بہت بعد میں (آج سے اڑھائی ہزارسال قبل) یہاں حملہ آوروں کے طورپر آئے تھے ۔یہاں انہوںنے اسی طرح قبضہ کیا تھا جس طرح وسطِ ایشیا کے آریاؤں نے پنجاب اورگنگاجمنا کی وادیوں پر اورجس طرح مسلمانوں نے اندلس پر۔

   کسی تاریخی شہادت سے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ یہود ارضِ مقدس میں آکر وہاں کی اکثریت بن گئے تھے۔اس کے برخلاف یہ شہادتیں موجود ہیں کہ یہودکے ساتھ آموری ،ادومی،فلستی اور موآبی قبائل جوپہلے سے یہاں بس رہے تھے وہ اس دوران بدستور ارضِ مقدس میں آباد رہے۔

    پھر یہودیوں کی یہ آبادی ارضِ مقدس میں فقط پانچ صدیوں تک رہی ۔ اس کے بعد انقلاباتِ زمانہ نے انہیں ارضِ مقدس سے نکال دیا ۔اس بے دخلی کو دوہزاربرس گزر گئے۔اوریاد رہے کہ یہ بے دخلی مسلمانوں کے ہاتھوں نہیں ہوئی۔یہ کام بابل کے بخت نصر اور رومی بادشاہوں کے ہاتھوں ہوا۔ان کی جلاوطنی کے دوران  غیر یہودی قبائل،جوان سے پہلے سے وہاں بستے تھے،اسی طرح وہاں آباد رہے۔

  مسلمانوں نے ساتویں صدی عیسوی(پہلی صدی ہجری) میں بیت المقدس سمیت سارااردن اورشام فتح کیا۔ فتح کرنے والے مسلمان یعنی صحابہ کرام تعدادمیں بہت کم تھے۔ان کے گھرانے جو اردن اورشام میں آباد ہوئے ،مقامی لوگوں کی تعداد کاچوتھائی بھی نہیں تھے۔انہوں نے کسی کوزبردستی مسلمان نہیں کیا۔کسی کوجبراً عربی بولنے پر مجبورنہیں کیا۔اِکادُکا یہودی اس زمانے میں بھی ان علاقوں میں پائے جاتے تھے جو رومی دور میں بدترین مصائب کاشکار تھے۔مسلمانوں نے انہیں رومیوں کے برابر حیثیت دی اوران کی عزتِ نفس بحال کی۔ مسلمانوں کے اخلاق اوران کے عدل وانصا ف کو دیکھ کرقدیم مقامی لوگ(جن کی اکثریت نصرانی تھی) تیزی سے مسلمان ہوتے چلے گئے۔انہوں نے عرب کلچر کواپنالیا اورایک صدی کے اندر اندر بالکل عرب بن گئے۔ان کی مسلمانوں سے شادیاں ہوئیں اورانہی کی نسل آج تک شام ،اردن اورفلسطین کی اکثریت ہے۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے نصرانی  رہے،ان پر بھی کوئی جبر نہیں کیا گیا۔آج تک شام اوراردن میں ان کی خاصی تعداد موجود ہے۔  فلسطین ، شام ،اردن ،لبنان اوراسرائیل کاکوئی شہر ان سے خالی نہیں۔یہ لوگ ان نسلوں سے ہیں جویہودیوں سے پہلے سے یہاں آباد تھیں اوران کے بعد بھی آباد رہیں ۔انہی کوفلسطینی عرب ،شامی عرب ،عرب مسیحی وغیرہ کہاجاتا ہے۔

   اس تمام تر تاریخی تناظرکودیکھتے ہوئے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ بیت المقد س یااسرائیل کبھی کسی دور میں یہود کااصل وطن رہاہے؟اگرپانچ سوسال رہنے کے باعث یہ ان کاوطن ہے توان سے کہیں زیادہ یہ ان آموری،فلستی،موآبی اوردیگر نسلوں کاوطن ہے جویہود سے پہلے  بھی یہاں آباد رہیں اوران کے بعد بھی۔ اگرا ن کی اکثریت نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کرلیا تو کیا اس وجہ سے وہ اس سرزمین کے حق سے ہی محروم ہوگئے جہاں وہ ہزارہاسال سے آبادہیں۔اگران کے آباؤاجدادنے عربوں سے رشتے ناتے کرلیے توکیایہ اتنا بڑاجرم تھاکہ انہیں  اپنے ہی ملک میں مہاجربن کرخیمہ بستیوں میں  رکھاجارہا ہے؟کونسی ایسی قوم ہے جس نے دوسری نسلوں سے رشتے استوارنہیں کیے؟اوردوسری مذاہب کواختیارنہیں کیا؟اگر یہ جرم ہے توپھر ایسی تمام اقوام دنیا کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ کیاانہیں یہ سزادی جاسکتی ہے؟

   اورسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی قوم کسی علاقے کوفتح کرکے وہاں مقامی قبائل کے ساتھ چند صدیاں گزارنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہاں کی وارث ہوجاتی ہے؟

  اوراگر زمانے کی گردش اسے وہاں سے نکال دے توکیااس کے ہزاروں برس بعد بھی اس زمین کی ’’الاٹمنٹ ‘‘اسی کے نام باقی رہتی ہے؟

   اگر واقعی ایسا ہے تواس اصول کے مطابق فلسطین بھی عربوں کاحق ہے اور اندلس بھی۔یہودی تو ارضِ مقدس میں پانچ صدیوں تک ہی رہے ہیں جبکہ عربوں نے ارضِ مقدس سمیت پورے شام میں تیرہ صدیاں گزاری ہیں۔اندلس میں بھی وہ کم ازکم آٹھ صدیاں رہے ہیں۔انہوں نے وہاں بھی اسی طرح عدل وانصاف سے حکومت کرکے لوگوں کے دل ودماغ جیتے۔انہیں علم اورایمان کی روشنی دی۔وہاں رشتے ناتے کیے۔اس سرزمین کوعلوم وفنون سے آبادکیا۔کیااندلس ان کاحق نہیں؟

    یہودی پانچ سو سال بیت المقدس میں اور   دوہزارسال سے زائد طویل مدت تک اس سے باہر رہے۔اس کے بعد بھی وہ اسے اپناموروثی حق کہتے ہیں۔ جبکہ عرب اسپین میں آٹھ صدیوں تک رہے اورانہیں وہاںسے نکلے ہوئے فقط سواپانچ صدیاں ہی ہوئی ہیں۔بیت المقدس میں یہود کے دورِ قدیم کی اکادُکا نشانیاں ہی باقی ہیں اوروہ ابھی اصل حالت میں نہیں۔ اسپین میں آج بھی عربو ں کی تہذیب وثقافت اوران کی محیر العقول تعمیرات کے تابندہ نقوش  اصل حالت میں جابجا دکھائی دیتے ہیں۔

     ہاں ہم مان لیں گے کہ بیت المقدس یہود کا ہے ۔ہم کوئی احتجاج نہیں کریں گے اگر وہ یروشلم کواپناپایۂ تخت بنالیں،بشرطیکہیہودی مان لیں کہ اندلس آج بھی عربوں کا ہے اوراقوام متحدہ مان لے کہ  مسلم اُمہ اندلس کی بازیابی کی قرارداد،سلامتی کونسل میں پیش کرسکتی ہے۔اقبال کے اس دعوے کاجواب آج بھی سرپرستانِ یہود پر قرض ہے   ؎ 

ہے  خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق

ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

عنوانات

پر اشتراک کریں

حالیہ مضامین

  پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دارکون؟

آگئی چھٹیاں

پاک بھارت تعلقات

کشمیر کاالمیہ

بیت المقدس سے اندلس تک - Maulana Ismayil Rehan Sahab Website