طریقہ تعاون

عالمگیر خلافت اوراجماعِ صحابہ #2

محمداسماعیل ریحان

گزشتہ کالموں میں خلافت کے حوالے سے جوکچھ لکھاگیاتھا، اس پر ایک صاحب نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے حوالہ طلب کیاہے کہ آیا واقعی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلامی خلافت میں تحلیل اور تقسیم کوقبول کرلیاتھا؟
مجھے ان صاحب کی حیرت پر حیرت نہیں !کیوںکہ ہمارے حلقے میں تاریخ سے ناواقفیت کاعالم ناقابل بیان ہے۔ہم لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ چودہ صدیوں تک مسلمان ایک ہی حکومت کے تحت زندگی متحد ومتفق تھے۔ چوتھائی صدی خلافتِ راشدہ کی تھی،ایک صدی بنوامیہ کی ،پھر ساڑھے چھ صدیاں بنوعباس کی تھیں اورچھ صدیاں بنوعثمان کی۔ اس کے بعد یورپی اقوام نے آکر ہمارے حصے بخرے کردیے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ مسلم معاشرہ اورخلافتی نظام کن کن سیاسی انقلابات سے گزراہے ۔ اس بار ے میں یہاں مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔کوئی بھی تاریخ کی کتاب اٹھاکر دیکھ لیں۔


ان سطور میں اتناثابت کرناہے کہ ہاں واقعی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلامی خلافت کی تحلیل قبول کرلی تھی۔اگرچہ پہلے وہ ان نصوص کی روشنی میں جن میں باغیوں سے قتال کی اجازت مذکورہے،اہلِ شام سے جنگ کی پالیسی پر عمل پیراتھے مگر بعد میں اس کے نقصانات دیکھ کراس پرتیار ہوگئے کہ خلافت کی عالمگیریت ہاتھ سے جاتی ہے توجائے مگر مسلمانوں میں مزید خونریزی نہ ہو۔
یہ فیصلہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صفین کے میدان میں جنگ بندی کی شکل میں ہوا۔ جس کی روایت درج ذیل ہے:
’’حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدناحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: قرآنِ مجید کا نسخہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں وہ اس پیشکش کو مسترد نہیں کریں گے۔ ایک صاحب یہ پیشکش لے کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ہمارے اور آپ کے درمیان یہ اللہ کی کتاب (مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے) موجود ہے۔ پھر ان صاحب نے آیت تلاوت کی۔ ترجمہ:بھلا تو نے دیکھا ان لوگوں کو جنہیں کتاب کاایک حصہ عطاکیاگیا،انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایاجاتاہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے پھر بھی ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتاہے اورتوجہ نہیں دیتا۔(آل عمران:۲۳)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو اس پیشکش کو سب سے پہلے قبول کرنے والا ہوں۔ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (فیصلے کے لیے موجود) ہے۔‘‘
{ مسند احمد، ج:۳، ص:۳۸۵۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۱۵، ص:۳۱۷، بخاری میںبھی اس روایت کا کچھ حصہ ہے حدیث:۳۱۸۹،باب غزوہ الحدیبیۃ}


کچھ مدت تک سفارتی بحثوں اور مذاکرات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں مستقل صلح ہوگئی، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو درج ذیل خط لکھا:
’’اگر آپ پسند کریں تو عراق آپ کے پاس رہے اور شام میرے پاس ، تاکہ امت کے درمیان تلوار چلنا بند ہو جائے اورمسلمانوں کا خون نہ بہے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے بخوشی قبول کرلیا۔ صلح کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ( طبری، ج:۵، ص:۱۴۰، عن زیادبن عبداللہ)
تمام تاریخی روایات گواہ ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک مسلمانوں کے ان دونوں ممالک کے باہمی معاملات اسی نکتے پر قائم رہے۔
٭
حقیقت یہ ہے کہ ہماری تاریخ میں دوبار صحابہ کرام کااس بات پر اجماع ہواہے کہ وہ خلافت کی عالمگیر شکل کے لیے مسلمانوں میں خونریزی کاراستہ نہیں اپنائیں گے۔دوسری بارحضرت حسن رضی اللہ عنہ اورحضر ت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اس بات پر اتفاق ہواکہ عالمگیر خلافت کاقیام مسلمانوں کی لاشوں پر نہیں ہوگابلکہ اس کی کوئی پُراَمن شکل نکالی جائے گی۔ تفصیل صحیح بخاری کی روایت میں ہے ۔:


’’ حضرت حسن رضی اللہ عنہ پہاڑوں جیسے لشکر لے کر آن پہنچے توحضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا:’’ میںنے حضرت حسن کے پاس ایسا لشکر دیکھا ہے جو اپنے مقابل کو مارے بغیر جانے والا نہیں۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اے عمرو! بتاؤ اگر اس فوج نے اُس فوج کو اور اُن لوگوں نے اِن لوگوں کو ما رڈالا تو میرے پاس عوام کی دیکھ بھال کرنے والا کون رہے گا؟ کون ہوگا جو عوام کا اورخواتین کا خیال رکھے گا؟ کون ہو گا جوان کی جائیدادوں کی خبر گیری کرے گا؟ پس سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قریش کے خاندان بنو عبدشمس کے دو (ممتاز) افراد حضرت عبدالرحمن بن سمرہ اور حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا: آپ دونوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں، انہیں (صلح کی) پیش کش کریں۔ یہ دونوں حضرات حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور بات چیت کرکے مفاہمت کی درخواست کی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’بے شک یہ امت اپنے ہی خون میںلت پت ہے۔ ( یہ خون خرابا ختم ہونا ضروری ہے۔) شام کے سفیروں نے کہا:’’ حضرت معاویہ آپ کو ( اتنے عطیات اور اموال کی) پیش کررہے ہیں اور آپ سے صلح کی درخواست کررہے ہیں۔‘‘ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بولے:’’تو پھر اس پیشکش کے پوراکرنے کی ضمانت کون لیتا ہے؟‘‘ دونوں حضرات بولے:’’ ہم اس کے ضامن ہیں۔‘‘ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد جس چیز کی بھی فرمائش کی (کہ صلح کے بدلے اس کی ضمانت دی جائے) دونوں حضرات نے اس کی ضمانت دی۔ چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی۔( صحیح بخاری، حدیث نمبر:۲۷۰۴)


حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کے باعث خونریزی کے بغیر عالمگیر خلافت قائم کیے جانے کاہدف حاصل ہوگیااورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص:۲۰۳)
پس دورِ علوی میں امن وامان کے قیام کو عالمگیر خلافت پر ترجیح دینے اوردورِ حسن بن علی ؓ میں عالمگیر خلافت کے لیے پرامن طریقہ اختیار کرنے پر صحابہ کااجماع رہا۔ان فیصلوں کوحضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عبداللہ بن عباس ،حضر ت ابوہریرہ ،حضر ت عبداللہ بن عمرو بن العاص اورحضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم نیز امہا ت المؤمنین اورسینکڑوں صحابہ کرام اورصحابیات کی تائید حاصل رہی۔
پس اس بار ے میں غورضرورکرناچاہیے کہ کیا ہمارے لیے اس اجماعِ صحابہ کی پیروی کرتے ہوئے عالمگیر خلافت کے لیے پرامن جدوجہداورخونریزی سے اجتناب کی گنجائش نہیں نکلتی ؟


آخرموجودہ دورمیں مسلم کشی سے بچتے ہوئے عالمگیر خلافت کے قیام کاطریقہ کیا ہوگا؟ کیایہ کہ ایمانی دائرے کو تنگ اور حدودِکفر کووسیع کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کی تکفیر کرکے انہیں قتل کیاجائے ؟یا کچھ اور!!صحابہ کے سچے نام لیواؤں کو کوئی حتمی راستہ اپنانے سے پہلے اس بارے میں سوچنا ضرور

عنوانات

پر اشتراک کریں

حالیہ مضامین

  پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دارکون؟

آگئی چھٹیاں

پاک بھارت تعلقات

کشمیر کاالمیہ

عالمگیر خلافت اوراجماعِ صحابہ #2 - Maulana Ismayil Rehan Sahab Website