محمداسماعیل ریحان
ہفتہ۳۱ اکتوبر کی شب دس بجے گیروال مانسہر ہ ، کی عظیم روحانی شخصیت ،حضرت خواجہ عبدالحئی صاحب دنیاسے رحلت فرماگئے۔وہ سلسلہ نقشبندیہ بنوریہ کی مسندِ تربیت وارشاد کے وارث تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اورحضرت سید احمد شہید جیسی ہستیوں نے ہندوستان میں اس سلسلے کی آبیاری کی اور لاکھوں لوگ ان سے فیض یاب ہوئے۔ اسی سلسلے کے ایک پیر خواجہ شمس الدین سید پوری تھے جن کا اصل علاقہ کشمیر تھا۔انہوں نے طویل عمر پائی اوروسیع حلقۂ ارادت چھوڑکرگئے۔
حضرت خواجہ عبدالحئی رحمہ اللہ انہی کے فرزند ِ ارجمند تھے جو۱۹۳۰ء میں پیداہوئے ۔۱۹۴۳ء میں چودہ برس کے تھے جب میٹرک کیا، پھر منشی فاضل اورعربی فاضل کے امتحانات پاس کیے۔اس دوران سلوک کے اسباق جاری تھے ۔سترہ برس کی عمر میں اپنے والدگرامی کے خلیفۂ مجاز بن گئے۔اگرچہ وہ باقاعدہ عالم نہیں بنے مگرانہیں دیکھنے سننے والاکوئی نہیں کہہ سکتاتھا کہ وہ علوم وفنون کا ایک بحرِ بے کراں نہیں۔ وہ عر بی اورفارسی بہت اچھی جانتے تھے ۔مختلف اوقات میں متعدد علماء سے دینی کتب پڑھتے بھی رہے۔ان کی ذہانت ،قوت ِ حافظہ اور استعداد بہت اعلیٰ پائے تھی۔اکابر علماء ومشائخ کی طویل عرصے تک صحبت ورفاقت ،تقویٰ وپرہیزگاری ،مجاہدہ نفس ،کثرت ِ ذکر اور سلوک کے اعلیٰ مقامات تک رسائی نے ان کی سینے کوانوارکا گنجینہ بنادیاتھا۔اس لیے ان کے قلب سے زبان تک آنے والاایک ایک نکتہ ایسا ہوتاتھاکہ سامعین محبت ِ الہٰی میں بے خود ہوجاتے۔آخری سالوں میں ان کی طرف رجوع عام ہونے لگاتھا۔ مریدین و مجازین کا سلسلہ دوردورتکپھیل گیاتھا ۔وہ حاضرین کو کبھی مایوس اور مضمحل نہیں ہونے دیتے تھے۔ شفقت آمیز گفتگو اورخوش طبعی سے سب کے دلوں کوموہ لیتے۔ بلاشبہ ان کی صحبت اکسیر کا اثر رکھتی تھی ۔ان کے پاس بیٹھ کر مشائخ کی یہ بات وجدانی طورپر سچ محسوس ہوتی تھی کہ اللہ والوں کی صحبت نسخہ کیمیا ہے۔
راقم نے حسن ابدال منتقل ہونے کے بعد ان کی زندگی کے آخری سالوں میں چند بار ان کی زیارت کی ہے اور ان کے بیانات سنے ہیں۔اگر چہ عمر رسیدگی ، امراض اورناتوانی کی وجہ سے وہ بمشکل سہارا لے کر چل پھر پاتے تھے مگر جب بیان کا وقت آتا تو مریدین کے منع کرنے کے باوجودآرام دہ صوفے کو چھوڑکر منبر پر تشریف فرماہوتے ۔ا یسے میں ان کے بدن میں توانائی کی ایک لہر موجیں مارنے لگتی ۔وہ آرام سے دودوتین تین گھنٹے بیان فرماتے ،خود بھی محبتِ الٰہیہ کی باتوں میں محو ہوجاتے اور سامعین کو بھی وقت گزرنے کاپتانہ چلتا۔
راقم کی طبیعت ایک زمانے سے کچھ ایسی بن گئی ہے کہ جلسوںکی طویل تقریریں بالکل نہیں سن پاتا۔ ہر بات سنی سنائی اورخالی خولی معلوم ہوتی ہے۔مگر حضرت وہ سلوک ومعرفت کے مشکل مضامین کو ایسے آسان انداز میں بیان فرمایاکرتے تھے کہ عوام وخواص سب یکساں طورپرمستفید ہوتے ۔اپنے بیانات میں تقویٰ پر بہت زور دیتے تھے۔فرماتے تھے کہ اگر گناہوں سے بچنے کااہتمام نہ ہوتو پھر ذکر اثر نہیں کرتا۔صحبتِ شیخ کی ضرورت بہت عمدہ انداز میں ذہن نشین کراتے ۔ اطاعت وانقیاد کو شیخ سے استفادے کی لازمی شرط قراردیتے۔ فرماتے تھے کہ شیخ کافیض ضرورپہنچتاہے بشرطیکہ کہ مرید خود ہی کنڈی بند کرکے نہ بیٹھا ہو۔
کے بیان میں وقت کاپتاہی نہیں چلتا تھا۔ ایک سے زائد بارایساہو اکہ بیان شروع ہوتے وقت میں نے گھڑی دیکھ لی ۔بیان ختم ہوتے وقت دوبارہ گھڑی پر نگا ہ ڈالتے ہوئے یقین تھاکہ بیس منٹ گزرے ہوں گے مگر گھڑی نے بتایاکہ دو پونے دو گھنٹے گزرچکے ہیں۔
ان کے ایک دوجملوں کااثر دوسروں کی طویل تقریروں سے کہیں زیادہ ہوتاتھا ۔ایسے لوگ دیکھےہیں جو دوسروں سے گھنٹوں بعد بھی قائل نہیں ہوئے مگر حضرت نے ایک بار کہہ دیا کہ ایسا نہ کرو ۔ بسب غیر کچھ کہنے سنے ،مان گئے ۔
حضرت رحمہ اللہ کوفارسی اورپنجابی کے صوفی شعراء کے بے شمار اشعارنوک ِ زبان تھے ،بیانات اور گفتگو میں بعض اوقات یہ اشعارترنم کے ساتھ پڑھتے تو ماحول میں کیف وسرور کی موجیں امنڈ آتیں۔ حضرت کی آواز ،آخری عمر میں بھی بڑی صاف،بلند اورمیٹھی تھی ۔ میں سوچتا تھا، کہ جوانی میں حضرت کس قدر خوش آواز ہوں گے۔انہوںنے جلیل القدر اکابر کا سنہرادوردیکھا تھاجس کی یادیں ان کے سینے میں محفوظ تھیں۔ حافظہ بہت اچھاتھا،اس لیے جزئیات کے پورے استحضار کے ساتھ ،جب اکابر کے واقعات سناتے تھے تویوں محسوس ہوتاتھاجیسے یہ نورانی صورتیں سامنے چل پھر رہی ہوں۔ان کے بیانات میں یکسانیت قطعاً نہیں ہوتی تھی۔ ہر بارایک نیا مضمون ،نئے نکات اورنئے واقعات سننے کو ملتے تھے۔
آخر تک مطالعے کاشوق باقی تھا۔ ضربِ مومن اور روزنامہ اسلام کے مضامین دلچسپی سے پڑھتے تھے۔راقم کو بھی دعاؤں سے نوازتے تھے۔حالات سے باخبر رہتے اورمنگراں قدر مشوروں کے ذریعے منتسبین کی رہنمائی کرتے۔ مختلف اداروں اوردینی کاموں کی بھرپور سرپرستی فرماتے تھے ۔
یکم نومبر ۲۰۱۵ء کی صبح جب ان کی وفا ت کی اطلا ع ملی تو ایسا معلوم ہواکہ ایک ابر ِ رحمت سر سے اٹھ گیا ہے۔ راقم ان کے مخلص مریدین کے ایک قافلے کے ساتھ مانسہر ہ پہنچا ۔وہاں ہزارہ یونی ورسٹی کے وسیع وعریض میدان میں ان گنت لوگ جمع تھے۔ مجمع کثر ت کے باعث انتظامیہ کے قابو سے باہر معلوم ہوتا تھا۔ لوگ کئی کئی گھنٹے سفر کرکے سینکڑوں میل سے وہاں پہنچے تھے۔
ان کے خلیفہ مجاز حضرت مولانااحسان الحق صاحب جو جناز ے کے انتظامات کرنے ،پہلے ہی وہاں پہنچ گئے تھے ،بتاتے ہیں کہ گزشتہ رات حضرت سے فون پر بات ہوئی ۔ میں ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب کے جنازے میں گیاتھا۔ حضرت نے اس کااحوال پوچھا ،اپنے رنج وغم کااظہارکیا اورپھر فرمایا:ـ اللہ والوں کے اٹھ جانے سے فتنوں کے ظاہر ہونے کاخطرہ ہوتاہے۔‘‘
حضرت خواجہ صاحب کی عادت تھی کہ عمر بھر نمازِ وتر تہجد کے ساتھ ادافرماتے رہے۔لیکن اس شب عشاء کی نما ز کے بعد وتر اداکرلیے ،اور فرمایا:شاید آج رات میں نہ اٹھ سکوں۔‘‘
ابھی رات کے دس بجے تھے کہ حضرت دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لگتاتھا انہیں قدرتِ الٰہیہ نے وقتِ رخصت کااشارہ دے دیاتھا۔
٭
حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے چھ بیٹے ہیں اور سبھی ما شاء اللہ عالم باعمل اورمجاز ہیں۔ان کے علاوہ بھی حضرت کے مجازین ومریدین کاسلسلہ اندرون وبیرون ممالک تک پھیلا ہواہے ۔ امید ہے کہ ان کی وساطت سے سلسلہ نقشبندیہ بنوریہ کی کرنیں مزید برمزید پھیلتی رہیں گی۔
اللہ نے ان کے خاندان اورنسل میں بڑی برکت دی ہے۔ہر طرف جیدعلماء او رقراء دکھائی دیتے ہیں۔ سبھی دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک مولاناانس یونس بھی ہیں جن کی خوش الحانی و نعت خوانی کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ وہ حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے محبوب نواسے ہیں۔
راقم حضرت سے محض اظہارِ عقیدت ومحبت کے طورپر ان کے بارے میں یہ چند سطریں لکھ رہاہے ورنہ ایسے اولیاء ومشائخ کے متعلق میراکچھ کہنا بالکل ایسا ہے جیسے کسی پہاڑ کی بلند ی پر کھڑے شخص کے احوال کے بارے میں کھائی میں گرے ہوئے کاکچھ کہنا۔راقم ان سطور کی وساطت سے ان کے پس ماندگان اورمنتسبین سے دلی اظہارِ تعزیت کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہستیوں کی اتباع نصیب فرمائے۔ ان کے جانے سے جن فتنوں کاخدشہ ہے، اللہ محض اپنے فضل سے ہمیں ان سے محفوظ فرمائے۔آمین