طریقہ تعاون

ماہِ رمضان اورفتحِ سندھ(۱)

مولانا اسماعیل ریحان صاحب

آج سے چودہ صدیاں پہلے برصغیر میں سندھ کی مملکت ایک وسیع وعریض راجدہانی تھی جوشمالاً جنوباًبحیرۂ عرب کے ساحل سے ملتان تک اورشرقاً غرباًراجپوتانہ سے مکران تک پھیلی ہوئی تھی۔بالائی سندھ کامرکز ’’اروڑ‘‘اور زیریں سندھ کا ’’برہمن آباد‘‘تھا۔سندھ کے بت پرست حکمران ایک مدت سے ایرانیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔بلوچستان میںاسلامی افواج کے خلاف صف بندی میں ایرانی اورسندھی شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے تھے۔اس لیے خلفائے اسلام سندھ کو نظر اندازنہیں کرسکتے تھے۔ تاہم وہ ایک مدت تک یہاں کوئی بڑاحملہ نہ کرسکے۔ 

ولیدبن عبدالملک کے دورمیں ایک ایساسانحہ پیش آیاکہ مسلمانوںکو برصغیر میں مستقل حکومت قائم کرنے کافیصلہ کرناپڑا۔اس دورمیںیہ علاقہ راجہ داہر کے زیرِنگین تھا جس کی بدفطرتی کا یہ حال تھا کہ سگی بہن سے شادی رچائے ہوئے تھا۔

    برصغیر کے جنوب میں سراندیپ (سری لنکا) کاجزیرہ تجارتی سرگرمیوں کابڑامرکزتھا۔گزشتہ خلفاء کے دورمیں بہت سے عرب تاجر مستقل طورپریہاں آباد ہوگئے تھے ۔ولید بن عبدالملک کے دورمیںا ن میں سے کچھ تاجر وفات پاگئے اور ان کے کنبے اب وطن واپس جاناچاہتے تھے ۔سری لنکاکا راجہ ایک رعایاپرورحکمران تھا۔اس نے کئی کشتیوں میںان کے سفرکاانتظام کردیااورخلیفہ ولید کے لیے بیش قیمت تحائف بھی ساتھ کردیے جن میں ہیرے ،موتی،دیدہ زیب پوشاکیں اوربرتن شامل تھے۔

 جب اس قافلے کاگزر سندھ کے ساحل دیبل کے قریب سے ہوا تو یہاں کے جہازرانوںنیکوعورتوں کو گرفتارکرلیا اور سارا سامان لوٹ لیا۔اس وقت ایک عرب خاتون نے چیخ کرکہا…’’اے حجاج اے حجاج! مددکو پہنچ…‘‘

حجاج کویہ ماجرامعلوم ہواتوبے تابانہ پکاراٹھا:’’لبیک …لبیک‘‘

 اس نے فوراًایک سفیرکے ہاتھ راجہ داہرکو مراسلہ بھیجا کہ ان قیدیو ں کوآزاد کردیاجائے اورلوٹاہوامال واسباب واپس دیاجائے۔بصورتِ دیگر ریاستِ سندھ کوسخت نتائج کی دھمکی دی گئی ۔

داہر نے طاقت کے نشے میںاس مراسلے کی کوئی پروانہ کی اوربات کوٹالتے ہوئے کہہ دیا:’’یہ کام سمندری ڈاکوؤں کاہے۔ان پرہمارابس نہیں چلتا۔‘‘

مگر حجاج جیسے جہاندیدہ انسان کو ان حیلہ جوئیوں سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اس نے دربارِ خلافت سے سندھ میں جہاد کی اجازت طلب کی اورمنظوری ملتے ہی بلوچستان کے حاکم عبیداللہ بن نبہان کو سندھ میں پیش قدمی کاحکم دے دیا۔ عبیداللہ بن نبہان محاذ پر پہنچے تو زبردست جنگ ہوئی۔ عبیداللہ شہید ہوگئے اور فوج کو پسپا ہونا پڑا۔

(یادرہے کہ ڈاکٹرعمربن محمدداؤدپوتانے ’’چچ نامہ‘‘ کے حواشی میں خیال ظاہر کیاہے کہ یہ جنگ موجود ہ کراچی کے ساحل پر ہوئی تھی اورکلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کامزاردرحقیقت انہی عبیداللہ بن نبہان کا ہے۔واللہ اعلم)

 حجا ج کوخبرہوئی تواپنے دوسرے جرنیل بدیل بن طہفہ کواس مہم پربھیجا۔اس باربھی مسلمانوں کو شکست ہوئی۔حجاج سمجھ چکاتھاکہ سندھ کے راجہ کی طاقت اندازے سے کہیں بڑھ کرہے اور جب تک پورے سندھ پر قبضہ کرکے اس ظالم کی طاقت کوپارہ پارہ نہیں کردیاجاتا، مسلمانوں کی عزت بھی خطرے رہے گی اوران کے تجارتی راستے بھی۔آخرحجاج نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے اجازت طلب کی کہ برصغیر میںایک بڑی مہم شروع کرنے کی اجازت دی جائے ۔ولیدکوگزشتہ مہمات کی ناکامیوں کے بعد برصغیر میں پیش قدمی پراطمینان نہیں رہاتھا،اس نے جواب بھیجا:

’’یہ دوردراز کامحاذہے جہاں جاہل لوگ آباد ہیں۔وہاں جہاد کے لیے جس قدر سامان جنگ اورافرادی قوت درکارہے ،اس پر خطیراخراجات صرف ہوں گے،بے حدمشقت سہنا پڑے گی۔ہر بار مسلمان وہاں جاکرضایع ہوجاتے ہیں۔ اس بارے میں مزید غورکرناچاہیے۔‘‘

 خلیفہ کامکتو ب حجاج کی امیدوں کے خلاف تھا مگروہ مایوس نہ ہوابلکہ اس مہم کی ساری ذمہ داری اپنے سرلیتے ہوئے دوبار ہ عریضہ بھیجا:

’’امیرالمؤمنین !ایک مدت ہوگئی کہ مسلمان قیدی کافروں کے چنگل میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔وہاں لشکر اسلام کو جو شکست ہوئی ہے اس کا انتقام لینا بھی ضروری ہے۔ان مسلمان قیدیوں کو رہاکرانا بھی ناگزیرہے۔امیرالمؤمنین نے اپنے والانامے میں فرمایاہے کہ محاذبہت دورہے اوراس مہم پر بے پناہ لاگت آئے گی تو میں امیرالمؤمنین کو یقین دلاتاہوں کہ دارالخلافہ کے خزانے سے اس مہم پرجتنابھی خرچہ ہوگا،ان شاء اللہ فتح کے بعد اس سے دوگنا رقم مرکزی خزانے میں واپس جمع کرادی جائے گی۔‘‘

حجاج کایہ مراسلہ کچھ ایسااثرانگیز تھا کہ ولید کو اجازت دینا ہی پڑی۔منظورملتے ہی حجاج نے بڑے پیمانے پر جنگی تیاریاں شروع کردیں۔دار الخلافہ سے چھ ہزار شامی سپاہیوں کی کمک منگوائی اور اس مہم کی قیادت کے لیے بصرہ کے سابق حاکم قاسم بن محمد کے نوجوان بیٹے محمد بن القاسم کا انتخاب کیا جو اس وقت فارس کی سرحدوں پر تعینات تھا۔ محمدبن القاسم حجاج کاداماد اور بھتیجابھی تھا۔اسے جنگوں کا لگ بھگ دس سال کاتجربہ تھا۔اس نے لشکروں کی قیادت اس وقت سے شروع کردی تھی جب اس کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ ۸۳ھ میں حجاج بن یوسف نے اسے فارس کا حاکم بناکر کُرد باغیوں کی سرکوبی کاحکم دیاتھا، محمد بن قاسم نے باغیوں کاصفایاکرڈالاتھا۔

سندھ کی مہم کے لیے حجاج بن یوسف نے بڑے بڑے تجربہ کارامراء کی جگہ نوجوان محمد بن قاسم کواس لیے چناکہ اس مہم کے لیے غیرمعمولی وفاداری ، جذبۂ مہم جوئی اورمرکز کے احکام کی حرف بحرف اطاعت کی ضرورت تھی کیونکہ مہم کاسارانقشہ حجاج کے ذہن میں تھا ۔ اسے ایسا قائد چاہیے تھا جو اس کے اشارے کو سمجھے اور بے دریغ خطرات میں کود جائے۔ قبیلہ بنوثقیف کے اس جوہرِتابدارمیں کم عمر ی کے باوجود یہ تمام اوصاف موجودتھے۔

عام خیال ہے کہ محمد بن قاسم کی عمرسندھ پر حملے کے وقت سترہ سال تھی ۔ یہ بات درست نہیں اس وقت اس کی عمر تقریباً کم ازکم ستائیس سال تھی۔علامہ زرکلی کے مطابق محمد بن قاسم کی ولادت ۶۲ھ کی ہے۔اس لحاظ سے سندھ کی مہم کے وقت اس کی عمر ۳۰ سال بنتی ہے۔(الاعلام زرکلی: ۶ / ۳۳۳مع حاشیہ)

   حجاج بن یوسف نے لشکر کو تمام آلات اورضروری سامان کے ساتھ تیار کیا۔ قلعہ شکن منجنیقوں اور آتش زنی کے لیے بارودی مسالے سے لے کردھاگے سے تک ہر چیز ساتھ رکھی۔عرب سپاہی سالن پکانے کے لیے سرکہ استعمال کرتے تھے جو سندھ میں کم یاب تھا۔ سندھ کی گرمی کے باعث بوتلوں میںبھیجاگیا سرکہ بھی خراب ہوسکتاتھا۔ اس لیے حجاج نے سرکے کو روئی میں بھگو کر سایے میں خشک کرایا اور اس روئی کی بوریاں اس ہدایت کے ساتھ روانہ کردیں کہ جب بھی ضرورت ہو،اس روئی کو پانی میں بھگوکرحسب ِضرورت سرکہ حاصل کرلیاجائے۔اس سازوسامان میں سب سے عجیب چیز ’’عروس ‘‘نامی منجنیق تھی جسے پانچ سوآدمی مل کرچلاتے تھے۔

لشکر کی روانگی سے قبل حجاج بن یوسف نے نمازِجمعہ کے اجتماع سے ایک پرجوش خطاب کیا۔ اس تقریرکاہر جملہ اس کی دینی غیرت وحمیت کاآئینہ دارہے ۔ اس نے کہا:

 ’’زمانہ بدلتارہتاہے۔ جنگ کی مثال کنوئیں کے ڈول کی سی ہے ،کبھی اوپر ،کبھی نیچے۔وقت دودھاری تلوارکی طرح ہے،کبھی ہمارے حق میں ہوتاہے،کبھی ہمارے خلاف۔کبھی ہمیں فتح ہوتی ہے توکبھی شکست ۔ناکامی پرصبروتحمل اختیارکرنا چاہیے تاکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں اضافہ ہواورحادثے کازخم مندمل ہوجائے۔ہم اپنے منعم حقیقی اللہ بزرگ وبرتر کی حمدوثناکرتے ہیںاورا س کے کرم سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہم پراپنی نعمتیں باقی رکھے گا۔اپنی مہربانی کادروازہ کبھی بند نہ کرے گا۔سندھ کے محاذ پر شہید ہونے والے بدیل کی آواز ہر لمحہ میرے کانوں میںگونجتی ‘‘ہے۔ میں ہر وقت اس پکارکے جوا ب میں لبیک لبیک کہتاہوں۔اللہ کی قسم !اگراس لشکرکشی میں مجھے پورے عراق کی دولت اوراپناسب کچھ نچھاورکرناپڑے ،تب بھی میں یہ مہم انجام دیے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

عنوانات

پر اشتراک کریں

حالیہ مضامین

  پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دارکون؟

آگئی چھٹیاں

پاک بھارت تعلقات

کشمیر کاالمیہ

ماہِ رمضان اورفتحِ سندھ(۱) - Maulana Ismayil Rehan Sahab Website