مولانا اسماعیل ریحان صاحب مدظلہ العالی
خیروشر کامقابلہ وجودِ آدم کے ساتھ ہی چلاآرہاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کائنات میں خیر کا جہاں بھی اورجتنا بھی وجود ہے وہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہے۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت واحسان شناسی ہر مسلمان کے ایمان کے لیے لازمی ہے۔مگر افسوس کہ ہماری زندگیوں میں آج اس محبت واحسان مندی کاکوئی دوردورتک اثردکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں نہ نماز کی فکر ہے نہ روزے کی۔ عورتوں کوپردے کی پرواہ ہے نہ مردوں کو سنت کے مطابق شکل وصورت کی۔ہمارے گھروں اوردکانوں سے قرآن مجید کی تلاوت کی آوازنہیں موسیقی کی تانیں ابھرتی ہیں ۔ہماری محفلوں اورنشستوں میں اللہ کی بڑائی ،رسول کی محبت اورامت کی فکر کاکوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ سراسر غیبت ،چغلی ،جھوٹ اوراخلاقی اقدارکی پامالی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ گھروں سے لے کربازارتک اوردیہاتوں سے لے کرشہروں تک ہر طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کورونداجارہاہے۔ آہ!جس امت نے دین کو سارے عالم تک پہنچاناتھا ،وہ خودا س دین سے دور ہوگئی ۔اس کے باوجود ہمیں توقع ہے کہ ہم دنیا میں ایک ترقی یافتہ اورفتح مند قوم بن کرابھریں گے۔
ایں خیال است ومحال است وجنوں
صحابہ کرام کے حالات دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہوںنے کس طرح اللہ کے رسول سے محبت کا حق اداکرکے دکھایاجس کی بدولت وہ قیصروکسریٰ جیسی طاقتوں پرغالب آگئے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اخلاص ومحبت کی گواہی دی۔
سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ ایک صحابی ہیں۔ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ جنگ کے خاتمہ پر ان کا پتہ نہ لگا کہ کہاں ہیں۔ نہ غازیوں میں نظر آتے تھے نہ زخمیوں میں اور نہ شہیدوں میں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک صحابی کی خبر گیری فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے فکر مند ہوئے اور فرمایا: ’’کوئی جاکر سعد بن ربیع کی خبر لائے۔‘‘
حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ عنہ بولے: ’’میں جاتا ہوں۔‘‘
یہ گئے اور تمام لاشوں میں گھوم پھر کر ان کو تلاش کرتے رہے، ساتھ ساتھ آواز بھی دیتے رہے۔ وہاں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ آخر اُبی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کو آواز دینے کے ساتھ یہ بھی کہا: ’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طلب میں بھیجا ہے۔‘‘
اس پر لاشوں کے درمیان سے ایک دھیمی دھیمی سی آواز بلند ہوئی: ’’میں یہاں پڑا ہوں۔‘‘
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ جلدی سے آواز کی سمت گئے تو دیکھا کہ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ دم توڑرہے ہیں۔ زبان بند ہورہی ہے۔ جسم پر نیزے کے بارہ زخم تھے، مگر اس حال میں بھی سعد بن ربیع رضی اللہ نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں ان صحابی سے کہا:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا۔ انصار سے کہنا کہ اگر خدا نہ کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید کردیئے گئے اور تم میں سے کوئی زندہ بچ گیا تو خدا کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوگے… کیوں کہ تم نے شبِ عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہونے کی بیعت کی تھی۔‘‘
اس کے ساتھ ہی جنابِ سعد رضی اللہ عنہ کی روح مبارک پرواز کرگئی۔ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ لوٹے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد رضی اللہ عنہ کے آخری کلمات کی خبردی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ ان پر رحم کرے کہ یہ زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی خدا اور خدا کے رسول کے خیرخواہ رہے۔‘‘ (اسد الغابۃ: ج۲، ص ۲۷۸)
اگر ہمیں واقعی یہ احساس نصیب ہوجائے کہ حالتِ ایمان میں آنے جانے والے ہمارے ہرہر سانس پر اللہ کے نبی کے احسانات ہیں تو ہماری زندگی کارنگ ڈھنگ ہی بدل جائے۔