مولانا اسماعیل ریحان صاحب
جب بچے شرارتیں کرتے ہیں،شورشرابا کرتے ہیں تو آپ کاطرزِ عمل کیاہوتاہے ؟اسی طرح چیخنا چلانا، ڈانٹنا ڈپٹنا ۔ مارناپیٹنا۔ یا تحمل سے کام لینا، باوقاراندازمیں سمجھانا، شفقت کرنااورحکمت کے ساتھ کسی اورکام میں لگادینا۔
افسوس کہ اکثریت کاردِ عمل وہی ہوتاہے جو بچوں کاہوتاہے۔ہماری خواتین بچوں کے ساتھ خود بھی بچیاں بن جاتی ہیں۔ شورکے بدلے شور، بدزبانی کے بدلے بدزبانی ، شرارت کے بدلے زیادہ بڑی شرارت یعنی تھپڑ اورزدوکوب کے دوسرے طریقے ۔
اس سے بچے کبھی نہی سدھرتے ،مزید بگڑتے ہیں۔ وہ ہم سے وہی سیکھتے ہیں جو ہم آپ کرتے ہیں۔تجربے کی بات ہے کہ باوقار اورتحمل پسند والدین کی اولاد بھی آپ کو ویسی دکھائی دے گی۔ بدتمیز لوگوں کے بچے بھی بدتمیز نظرآئیں گے۔ کیا یہ قدرتی بات ہے ۔نہیں یہ برتاؤ کااثر ہے۔رویوں سے سیکھا گیا رویہ ہے۔قدرتی طورپر بچہ ماں باپ کی طرح ٹھنڈایاگرم مزاج ہوسکتاہے مگر اس مزاج کو عملی شکل میں تمیز یابدتمیزی کارنگ دینے کے ذمہ دار ماں باپ ہی ہوتے ہیں۔
بس بچوں کوشفقت دیجیے۔ تحمل سے پیش آئیے، تربیت کے لحاظ سے روک ٹوک ضرورکریں مگر جذبات میں آکر نہیں ۔ تشدد نہ کریں۔
چھوٹوں پر شفقت کرنے کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و فعلی احادیث بکثرت موجود ہیں۔ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ اس وقت یہ چھوٹے بچے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرطِ محبت سے حضرت حسین رضی اللہ کو چوم لیا۔ مجلس میں اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے (یہ بنو غیم کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے طبعی سخت مزاجی کا اثر ان میں موجود تھا۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے سے پیار کرتا دیکھ کر بولے: ’’میرے تو دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ اُٹھاکر اقرع ابن حابس رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور فرمایا: ’’مَنْ لایَرْحَم لا یُرحَم‘‘ (جو رحم نہیں کرتا اس پر حم نہیں کیا جاتا۔) (متفق علیہ کذا فی ریاض الصالحین: ص ۱۴۳)
ایک بار کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور (یہاں کے معاشرے میں بچوں سے پیار و محبت کے مناظر دیکھ کر حیرت سے) بولے: ’’کیا آپ بچوں کو چومتے بھی ہیں؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں!‘‘ وہ کہنے لگے: ’’مگر قسم خدا کی! ہم تو نہیں چومتے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اللہ ہی نے تمہارے دلوں سے رحم نکال دیا ہے تو بھلا میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ (رواہ البخاری: ج۱۰، ص ۳۶۰ ومسلم: ص ۲۳۱۷)